بنگلورو،17؍مارچ(ایس او نیوز) ایسے مرحلے میں جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے یکم اپریل سے ملک گیر پیمانے پر نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کی تیاری کا مرحلہ آگے بڑھایا جا رہا ہے- امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے کہا ہے کہ این پی آر کے متعلق ملک اور بالخصوص ریاست کرناٹک کے مسلمانوں کو کیا رخ اپنا نا چاہئے اس کا فیصلہ اجتماعی طور پر اور مکمل اتفاق رائے سے ہونا چاہئے-
دار العلوم سبیل الرشاد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا صغیر احمد خان نے این پی آر کے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان پر کہ این پی آر کی ترتیب کے مرحلے میں ملک کے کسی شہری کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے اس کے نام کے ساتھ ’ڈی‘ نہیں لگایا جائے گا اس کو غیر واضح قرار دیا -
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مبہم بیانات سے عام آدمی کی جو تشویش ہے اس کا ازالہ نا ممکن ہے - انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیر داخلہ نے جو تیقن دلایا ہے اس پر یقین کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک کہ ان کے بیان کو کسی قانونی دستاویز کی شکل نہ دی جائے جہاں تک عام آدمی کو رسائی ہو سکے-
انہو ں نے کہا کہ جہاں تک مردم شماری کے تحت درکار عام تفصیلات کا تعلق ہے وہ شمار کنندہ کو دے دی جائیں - لیکن این پی آر کے بارے میں جن تفصیلات کا تعلق ہے ان پر مسلمانوں کو کیا موقف اپنا ناچاہئے اس پر تمام علمائے کرام، دانشوروں، سیاسی قائدین اور احتجاجی تحریک سے جڑی تنظیموں کے علاوہ اس احتجاج میں شامل برادران وطن اور ان کی تنظیموں سے بھی مشورے کی بنیاد پر اتفاق رائے سے فیصلہ لیا جانا چاہئے-
انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ اس معاملہ میں الگ الگ تنظیموں کی طرف سے اپنے طور پر اعلانات کا سلسلہ چل پڑے - ایسی صورت میں ملت میں انتشار کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے- فیصلہ اگر تما م لوگو ں کو اعتماد لیتے ہوئے کیا جائے تو اس کا اثر بھی مکمل طور پر ہو گا- اگر فیصلے بکھر کر لئے جائیں تو اس سے احتجاج اور تحریک کا مقصد متاثر ہو کر رہ جائے گا -